آواز عصر | Awaz Asr | Arshad Mahmood Urdu navlet: ( )
· General Description of the Form of the Tazia
میر غوث بخش نزنجو پاکستان میں قوم پرست سیاست کا اہم نام تھا ۔ وہ سیاسی افہام وتفہیم سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلوچستان کے مسائل پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ اپنے تیس سال قبل دیئے گئے انٹرویومیں انھوں نے بلوچستان کی سیاست بارے جو بات کہی تھی وہ آج حرف بحرف درست ثابت ہورہی ہے ۔ کہتے ہیں ’بلوچستان میں پہلے مرکز گریزی کی حد تک اختلافات تھے لیکن اب بات مملکت گریزی کی طرف جارہی ہے۔بات یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری اور عطا ء اللہ مینگل ہمارے حکمرانوں کے رویہ سے اس حد تک مایوس ہوگئے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہ اس ملک میں وفاقی وحدتوں اور قومیتوں کو حقوق ملیں گے اورنہ ہی جمہوریت آے گی‘۔
پھولا ہوا اور خط و خال مٹے مٹے سے
Crime and Punishment (1866)
of Pages 168 Format Hardcover Publishing Date 2017 Language Urdu
ڈاکٹر عذر الیاقت تعلیم وتحقیق سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ اس وقت شعبۂ اردو، دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں کرسی نشین شعبہ ہیں۔ انھوں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ۲۰۱۶ ء میں ڈاکٹر عقیلہ بشیر کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ، اور خود کو ایک پر عزم اسکالر اور استاد کے طور پر منوایا۔ ان کی تحقیق کا مرکز پاکستانی اردو افسانوں میں ترک وطن کے مختلف تجربات ہیں ، جن کی ممکنہ جہات اس کتاب کی صورت یکجا کر دی گئی ہیں۔ ان کی علمی کارکردگی میں نہ صرف تحقیقی مضامین بلکہ کانفرنسوں میں فعال شرکت بھی شامل ہے۔ وہ طلبہ میں اعلیٰ تعلیم کے شوق کو فروغ دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں اور پختہ ارادہ رکھتی ہیں کہ طالب علموں کے موجودہ علمی ذخیرے میں ممکنہ حد تک اضافہ کر سکیں جس سے طلبہ میں ادب کی حقیقی سمجھ، قدر اور شعور پیدا ہو۔ بہ طور سر براہ شعبہ ارمغان لٹریری فورم کی صدارت بھی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف تحقیقی مجلات کی جائزہ کمیٹیوں، جب کہ ملکی جامعات کے مقالہ جات کی جانچ کمیٹیوں کی رکن بھی ہیں۔
When a brutal murder shatters the already fraying social order
راولپنڈی گزیٹیر | Rawalpindi gazetteer
Book Code: 5763
ارشد محمود سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو کشمیر کے نام پر مفاد پرستوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت باہم مذاکرات کریں اور بتدریج تمام متنازعہ امور کو حل کی طرف لے کر جائیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ٹھیک نہیں ہوسکتے، غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے۔
اس متن میں پیش کردہ تناظر مغرب کی فلسفیانہ روایت سے منسلک ہے چناں چہ اسے اردو زبان میں ترجمہ کرتے وقت اگر ترجمے میں ( زبان کے حوالے سے ) مطلوبہ تہذیبی رچاؤ کا اہتمام نہ کیا گیا تو متن ، آدھ کئے جملوں کا انبار بن جائے گا۔ سو ترجمے کے دوران پیدا ہونے والے اس گھمبیر مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے دریدا کے متن کا ترجمہ انسانی علوم کے کلامیے میں ساخت ، نشان اور کھیل“ کے عنوان سے کیا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اب بھی مذکورہ مسئلے سے چھٹکارا نہ ملا ہو تا ہم اس ضمن میں ایک ( طالب علمانہ ) کاوش ضروری تھی۔
اے کاش میں ان وادیوں میں گم ہو جاتا اور ان وادیوں میں چکر لگاتا ہوا آیا مگر جس چیز کی مجھے تلاش تھی وہ نہیں ملی۔